Shareek e Hayat by Bint e Aslam.
Complete Online Urdu Novel in Pdf Shareek e Hayat written by Bint e Aslam Pdf Novel based on Vani, Disable Hero Based and Makafat e Amal based Free Urdu Novels Download and Urdu Novels Online Reading in Mobile Free Pdf Download Urdu Novels Complete Posted on Novel Bank.
An read urdu novels online platform created just for urdu novels lovers, where they can easily find PDF copies of famous novels in urdu and can urdunovels online Pdf Download free of cost best urdu novels.
The website contains best romantic novels in urdu PDF form; the same goes for other genres.
This website is heaven for avid readers as they can not only download urdu novels in pdf but can easily read urdunovels online and top 10 urdu romantic novels.
The Urdu Novel Bank website contains the best layout and is relatively easy to use, even for an amateur. It has the best urdu novels collection, which include all the genres. Pdf free download novels.
Novel Bank is an online platform created to curb the hunger of passionate readers’ without any financial restraint. Read Urdu Books Online.
کیا تم رونا بند کر سکتی ہو مجھے سونا ہے؟ روبا نے بھیگا چہرا اٹھا کر اسے دیکھا جو بستر پر لیٹا اسے حکم دے رہا تھا۔
کیسا بےحس انسان ہے اٹھنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ اپنے کپڑے سنبھالتی وہ اٹھی اور اسکے قریب چل دی اور ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہوگئی۔
میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں، جرگے نے مجھے سزا دے دی ہے تو بختاور کو بخش دیں، وہ بچہ تھا غلطی ہوگئی اس سے، ساری زندگی آپکی غلامی کروں گی آپ جو کہیں گے میں کروں گی مگر پلیز بختاور کو بخش دیں اسے پولیس میں نہ دیں آپ ایک بار نیچے چل کر سب کو بتا دیں۔
حیدر نے حیرت سے اسے دیکھا۔ چل کر؟ تمہیں میرے بارے میں پتہ بھی ہے؟
جی آپ حیدر ہیں اور میں آپکی غلامی میں آئی ہوں۔ میں ونی ہو، آپکے ساتھ مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے پر پلیز بختاور کو بچالیں میں آپ کے پیر پکڑتی ہوں۔
اس نے اسکے کمبل میں چھپے پیر پکڑ لیے تھے جسے حیدر نے پیچھے کرنے کے لیے ہلایا بھی نہیں تھا جسے دیکھ کر وہ اس سے اور بد گمان ہوگئی تھی۔ اتنی اکڑ ہے کہ لڑکی پیر پکڑ کر کھڑی ہے اور وہ منع بھی نہیں کررہا، پیر ہی پیچھے کرلے۔
پلیز ایک بار چل کر اپنے چچا سے کہہ دیں کہ بختاور کو پولیس میں نہ دیں۔
حیدر نے ناگوری سے اسے دیکھا۔ ہاتھ ہٹائیں۔۔
اس نے فورا ہاتھ ہٹا دیے، جب حیدر کو کمبل سیدھا کرتے دیکھا۔
پلیز بخش دیں، پلیز ایک بار چل کر پولیس سے بات کرلیں پھر آپ جو کہیں گے میں کروں گی پلیز۔۔ اسکی آوازوں سے تنگ آکر حیدر نے بیزاری سے اسے دیکھا۔
نہیں چل سکتا، میں اپاہج ہوں، بیساکھی کے سہارے بھی نہیں چل سکتا۔ اسکی بات نے روبا کے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ لی تھی۔